کہاں تک ساتھ چلتے جُھوٹ کے ہم
مسافر ہی نہ تھے اِس رُوٹ کے ہم
حقیقت جانتے ہیں تیری دنیا
کُھلے رکھتے ہیں تسمے بُوٹ کے ہم
بلندی پر تھے لیکن ایک دن پھر
گرے ہاتھوں سے تیرے چُھوٹ کے ہم
ابھی تو صرف آنکھیں نم ہوئی ہیں
ابھی روئے کہاں ہیں پُھوٹ کے ہم
بہت سی تلخیوں کو پی رہے ہیں
شرابِ ناب میں اب کُوٹ کے ہم
چراغوں کا دھواں باقی رہے گا
چلے جائیں گے محفل لُوٹ کے ہم
سحر دیکھیں گے اپنی کرچیوں کو
کبھی شیشے کی صورت ٹوٹ کے ہم
Related posts
-
غلام حسین ساجد ۔۔۔ مَیں بہر صورت وہی ہوں اور وہی آئینہ ہے
مَیں بہر صورت وہی ہوں اور وہی آئینہ ہے صبح بھی آئینہ میری، رات بھی آئینہ... -
غلام حسین ساجد ۔۔۔ جہاں سے عکس مِلا، آئنہ وہیں سے مِلا
جہاں سے عکس مِلا، آئنہ وہیں سے مِلا نہیں کہ کوئی کہیں سے، کوئی کہیں سے... -
غلام حسین ساجد ۔۔۔ نشے کی جھونک میں آنکھوں کو مَل دیا سرِ شام
نشے کی جھونک میں آنکھوں کو مَل دیا سرِ شام وہ کوئی خواب تھا جس کو...
