کہاں تک ساتھ چلتے جُھوٹ کے ہم
مسافر ہی نہ تھے اِس رُوٹ کے ہم
حقیقت جانتے ہیں تیری دنیا
کُھلے رکھتے ہیں تسمے بُوٹ کے ہم
بلندی پر تھے لیکن ایک دن پھر
گرے ہاتھوں سے تیرے چُھوٹ کے ہم
ابھی تو صرف آنکھیں نم ہوئی ہیں
ابھی روئے کہاں ہیں پُھوٹ کے ہم
بہت سی تلخیوں کو پی رہے ہیں
شرابِ ناب میں اب کُوٹ کے ہم
چراغوں کا دھواں باقی رہے گا
چلے جائیں گے محفل لُوٹ کے ہم
سحر دیکھیں گے اپنی کرچیوں کو
کبھی شیشے کی صورت ٹوٹ کے ہم
Related posts
-
گلزار بخاری ۔۔۔ اور جاکر کہیں کرتا ہے سحر شام کے بعد
اور جاکر کہیں کرتا ہے سحر شام کے بعد ختم ہوتا نہیں سورج کا سفر شام... -
محمد علوی ۔۔۔ اب کے برسات میں پانی آئے
اب کے برسات میں پانی آئے خشک دریا میں روانی آئے ہر گھٹا کالی ہو کاجل... -
جوش ملیح آبادی ۔۔۔ اس قدر ڈوبا ہوا دل درد کی لذت میں ہے
اس قدر ڈوبا ہوا دل درد کی لذت میں ہے تیرا عاشق، انجمن ہی کیوں نہ...
