کہاں تک ساتھ چلتے جُھوٹ کے ہم
مسافر ہی نہ تھے اِس رُوٹ کے ہم
حقیقت جانتے ہیں تیری دنیا
کُھلے رکھتے ہیں تسمے بُوٹ کے ہم
بلندی پر تھے لیکن ایک دن پھر
گرے ہاتھوں سے تیرے چُھوٹ کے ہم
ابھی تو صرف آنکھیں نم ہوئی ہیں
ابھی روئے کہاں ہیں پُھوٹ کے ہم
بہت سی تلخیوں کو پی رہے ہیں
شرابِ ناب میں اب کُوٹ کے ہم
چراغوں کا دھواں باقی رہے گا
چلے جائیں گے محفل لُوٹ کے ہم
سحر دیکھیں گے اپنی کرچیوں کو
کبھی شیشے کی صورت ٹوٹ کے ہم
Related posts
-
حسن اکبر کمال … غمِ جاں گم غمِ دنیا میں تو ہونا مشکل
غمِ جاں گم غمِ دنیا میں تو ہونا مشکل ہے سمندر کو سمندر میں سمونا مشکل... -
ایوب رومانی … دل میں کچھ درد سوا ہے یارو
دل میں کچھ درد سوا ہے یارو آج رونا بھی روا ہے یارو سانس لیتا ہوں... -
منظور حسین شور … مجھے اے ہم نفس اندیشۂ برق و خزاں کیوں ہو
مجھے اے ہم نفس اندیشۂ برق و خزاں کیوں ہو مری پرواز محدودِ فضائے گلستاں کیوں...
